ممبئی، 19/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) شردپوار کی این سی پی کے باغی گروپ کو حالانکہ کابینہ میں ان کے من پسند قلمدان مل گئے ہیں لیکن پارٹی کے اندر ہلچل ابھی بھی باقی ہے اور خبریں مل رہی ہیں کہ وہ مسلسل شرد پوار سے ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔ ذرائع کی مانیں تو اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے دن پوار کا وفادار گروپ غائب رہا، وہ نہ نہ ایوان میں کہیں نظر آئے اور نہ ہی مہا وکاس اگھاڑی کے احتجاج میں شامل رہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ اجیت پوار نے گزشتہ دنوں اپنے چچا شرد پوار کی پارٹی کو توڑ کر شندے حکومت میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ ۳۳؍ اراکین اسمبلی ہیں جبکہ پارٹی کے دیگر ۱۹؍ اراکین شرد پوار کے ساتھ ہیں لیکن ان ۱۹؍ میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ دونوں طرف ہیں۔ یعنی وہ شرد پوار کے وفادار بھی ہیں لیکن اجیت پوار کے حامی بھی۔ ایک طرح سے وہ پس و پیش میں مبتلا ہیں کہ آخر وہ کس کا ساتھ دیں۔ ان کا یہ پس و پیش پیر کو مانسون اجلاس کے پہلے دن بھی دکھائی دیا کیونکہ ان میں سے بیشتر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
ان میں سے ایک چیتن توپے نے اپنا ویڈیو ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ علیل ہیں اس لئے ایوان میں حاضر نہیں ہو سکے۔ چیتن توپے پونےکے ہڑپسر حلقے سے رکن اسمبلی ہیں۔ انہوں نے جو ویڈیو شیئر کیا ہے اس میں وہ ایک اسپتال کے بیڈ پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے ’’ میں جب سے رکن اسمبلی منتخب ہوا ہوں ایک بھی اجلاس سے غائب نہیں رہا۔ ہر اجلاس میں پوری طاقت کے ساتھ عوام کیلئے آواز اٹھائی ہے، اور لڑائی کی ہے۔ ‘‘ آگے وہ لکھتےہیں’’ مانسون اجلاس کا پہلا دن ہے لیکن میں حاضر نہیں رہ سکوں گا کیونکہ میری طبیعت خراب ہے۔ اس کا مجھے بے حد افسوس ہے۔ ‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا’’ جلد ہی علاج کروا کر اچھا ہو جائوں گا اور اجلاس میں شرکت کی کوشش کروں گا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اجلاس سے غیر حاضر تو کئی اراکین رہتے ہیں لیکن یوں اپنا ویڈیو جاری کرکے کوئی وضاحت پیش نہیں کرتا ۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے سیاسی ماہرین سوال کررہے ہیں کہ چیتن توپکر کو بیمار ہونے وڈیو شئیر کرکے اپنی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ماہرین پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ وڈیو جاری کرکے عوام کو اپنا پیغام دے رہے تھے یا پارٹی اعلیٰ کمان کو متوجہ کرارہے تھے۔
اجلاس کے پہلے دن مہا وکاس اگھاڑی نے روایات کے مطابق اسمبلی کی سیڑھیوں پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا لیکن اس میں صرف شیوسینا ( ادھو) اور کانگریس کے اراکین نے شرکت کی ۔ این سی پی کے شرد پوار حامی گروپ سے اس میں کوئی بھی شریک نہیں ہوا۔ یہاں میڈیا کو ان کی غیر حاضری کی وجہ بتانے والا بھی( این سی پی کی طرف سے) کوئی نہیں تھا۔ شیوسینا کے سچن اہیر نے میڈیا کو بتایا کہ’’ کچھ لوگ آئے تھے اور کچھ لوگ آنے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چونکہ آج اجلاس کا پہلا دن ہے اس لئے تمام لوگ حاضر نہیں ہوئے ۔ سچن اہیر نے کہا’’ یہاں سیڑھیوں پر ہونے والے احتجاج سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایوان کے اندر کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے۔ ایک دو دن کے اندر ان اراکین کو اپنا موقف واضح کرنا پڑے گا۔‘‘
شیوسینا رکن اسمبلی نے واضح طور پر کہا’’ جن لوگوں نے ان اراکین کو ووٹ دیا ہے ان کے سامنے بھی انہیں جوابدہ ہونا پڑےگا۔ ووٹروں کے ذہن میں اب لیڈروں کی شبیہ بدلتی جا رہی ہے۔ اگر اپنی شبیہ برقرار رکھنی ہے تو اپنا موقف بھی واضح کرنا پڑے گا۔‘‘ یاد رہے کہ سچن اہیر چھگن بھجبل کے بھانجے ہیں اور خود بھی ۲۰۱۹ء سے قبل تک این سی پی میں ہوا کرتےتھے۔ اب وہ شیوسینا میں ہیں۔ صورتحال عجیب یوں ہے کہ چھگن بھجبل بھی اب این سی پی ( شرد پوار ) کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کے ساتھ جا چکے ہیں۔ ادھر این سی پی کے بچے ہوئے اراکین یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ ان کا فائدہ شرد پوار کے ساتھ رہنے میں ہے یا اجیت پوار کے ساتھ۔ اجیت پوار اقتدار میں ہیں لیکن ان کی پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا اور کیا ان کی حمایت کرنے سے اقتدار میں کوئی حصہ مل سکے گا؟ ان ساری باتوں پر غور وخوض کرنے کےبعد ہی ان اراکین کا اگلا اقدام واضح ہو سکے گا۔